Friday, August 30, 2019

رشتے احساس کے ہوتے ہیں

رشتے احساس کے ہوتے ہیں
یہ بات تو آپ نے کافی دفعہ سنی اور پڑھی ہو گی کہ رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں۔ اگر خونی رشتوں میں احساس نہیں تو وہ رشتے نہیں ہوتے ، کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مجھے پہلے لگتا تھا کہ صرف خونی رشتے ہی اصل رشتے ہوتے ہیں لیکن میں نے خونی رشتوں کو ایسے ایسے رنگ بدلتے دیکھا ہے کہ اب رشتوں پر بڑی مشکل سے اعتبار ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ایسے بہت سے لوگ اپنی زندگی میں ملیں جن سے مل کر مجھے احساس ہوا کہ احساس ہی وہ چیز ہے جس سے رشتے بنتے اور ٹوٹتیں ہیں۔ میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھے ایسے بہت سے لوگ دیئے جنھوں نے مجھے رشتوں کی اہمیت بتائی۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ احساس ہی وہ جذبہ ہے جس سے اپنے پرائے ہوجاتے ہیں اور پرائے اپنے بن جاتے ہیں۔
مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب کوئی انسان کسی کا احساس نہیں کرسکتا تو وہ کس طرح کسی بھی قسم کا حق آپ پر جتا سکتا ہے۔ اگر کسی کو آپ کے دکھ، آپکی پریشانی، آپ کے موڈ، آپ کی خوشی، آپ کے چڑچڑےپن اور آپکی تکلیف کا احساس نہیں تو وہ کن الفاظ میں آپ سے اپنے مخلص ہونے کا دعوہ کرسکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں احساس کرنے والے کم اور احسان جتانے والے انسان زیادہ ہیں۔ خیر الحمداللہ میری زندگی میں بہت سے احساس کرنے والے لوگ ہیں جن کی میں دل سے شکر گزار ہوں۔

Sunday, August 18, 2019

افسانوی باتیں یا حقیقت

میرے کافی دوستوں کو لگتا ہے کہ میں افسانوی باتیں لکھتی ہو۔ ان کے خیال میں، میں جو زندگی کے باری میں بلوگ لکھتی ہو انکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سب افسانوی باتیں ہیں جبکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں جو بھی تجربات کئے ہیں، چاہے وہ اچھے ہو یا برے، میں ان کا اظہار اپنے بلوگز کے ذریعے کرتی ہو اور میرے خیال میں ہر انسان اپنی زندگی میں اچھے اور برے دور سے گزرتا ہے۔ زندگی تو نام ہی  خوشی اور غم کا ہے۔ اگر آپ کی زندگی میں غم نہیں آئیں گیں تو آپ کو خوشی کا احساس کیسے ہوگا اور اگر پریشانی نہیں ہو گی تو راحت کا مزا کیسے آئے گا۔
میرے لئے زندگی ایک سسپنس فلم کی طرح ہے جہاں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہونا ہے۔ کبھی انسان کو لگتا ہے کہ اگر اب کوئی غم یا مصیبت اس پر آئی تو وہ مر جائے گا لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو وہ بس چپ چاپ آنسو بہانے کے کچھ نہیں کرسکتا اور اس کے بعد بھی انسان جیتا ہے۔زندگی میں چاہیں جتنے بھی غم ہو لیکن ان کو ایک دن ختم ہی ہوجانا ہے وہ کہتے ہیں نا کہ "ہر اندھیری رات کے بعد ایک نیا سویرا ہوتا ہے۔"
ویسے میں اپنے دوستوں سے بس یہی کہو گی کہ میں جو محسوس کرتی ہو وہ لکھتی ہو۔ میں نے جو تجربہ کیا ہے اب تک زندگی کے بارے میں وہی میں بیان کرتی ہو اور سب سے بڑی بات مجھے لکھنا پسند ہے۔

Friday, August 2, 2019

زندگی حسین ہے

زندگی بھی کتنی عجیب ہے نا۔ آپ سوچتے بھی نہیں اور آپ کو اتنی خوشیاں دےدیتی ہے اور چھین بھی لیتی ہے۔ میں نے کبھی بھی اپنی زندگی سے کوئی شکایت نہیں کی بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بہت سی نوازشیں کی ہیں جس کا شکر میں پوری زندگی بھی کروں تو کم ہے۔ کچھ لوگوں کو میرے بلوگ پڑھ کر لگتا ہے کہ میری زندگی میں اداسی ہے یا میں مظلوم بن رہی ہو ۔ جبکہ میں وہ لکھتی ہو جو میرے ذہن میں آتا ہے ۔ اور اب اس چیز کا میں کیا کروں کہ جب میرے ذہن اور سوچوں میں ایسے الفاظ آتے ہیں جو زندگی کی کڑوی حقیقتیں ہی بیان کرتے ہیں۔ 
مجھے  لگتا ہے زندگی بہت حسین ہے۔ اگر یہاں غم ہے تو خوشیاں بھی ہیں، پریشانیاں ہیں تو سکون بھی ہے۔ کچھ اپنے ہو کر بھی غیر ہیں تو کچھ غیر ہو کر بھی اپنے ہیں۔ زندگی ایک نعمت ہے  

Tuesday, July 2, 2019

بعض اوقات انسان خود کو اتنا تکلیف میں محسوس کرتا ہے کہ اس کو لگتا ہے کہ اسکو زرا سی تکلیف اور ملی تو وہ مر جائے گا۔اور سب سے اذیت یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔ بعض دفعہ انسان اتنا بے بس ہوجاتا ہے کہ وہ رو بھی نہیں سکتا کیونکہ اس پر بھی کچھ لوگوں کو اعتراضات ہوتے ہیں یا اس کے رونے پر بھی لوگ اسے جج کرتے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ کیوں دوسروں کی زندگی میں اتنے اعتراضات کرتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود سکون سے رہتے ہیں اور نہ دوسروں کو رہنے دیتے ہیں۔

Sunday, June 23, 2019

زندگی

زندگی
یہ لفظ جتنا چھوٹا ہے اس میں اتنی ہی زیادہ مسافت ہے۔ کچھ انسانوں کو یہ مسافت ٹوٹے ہوۓ کانج پر چل کر پوری کرنی ہوتی ہے اور کچھ کو تپتی زمین پر چل کر ۔ میں بعض اوقات سوچتی ہو کہ کچھ انسان اپنی زندگی کی صرف تلخ یادوں کہ سہارے زندگی گزار دیتے ہیں جبکہ انکے پاس ایسے بہت سے موقع آتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اچھی یادیں اور پل شامل کرسکے۔ زندگی ہر انسان کو اچھی اور بری یادیں دیتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اگر آپ ابھی برا وقت گزار رہیں ہیں تو یہ ساری زندگی کے لئے ہو۔
مجھے لگتا ہے کہ زندگی نام ہی اچھے اور برے پللوں کا ہے۔اگر آپ برا وقت نہیں دیکھے گے تو اچھے وقت کو کھل کر کیسے جی سکیں گے۔ زندگی میں آنے والے کچھ برے لمحات انسان کو اس طرح توڑ کر رکھ دیتے ہیں کہ وہ پھر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہتا جبکہ کچھ لوگوں کو وہ حالات اتنا مضبوط بنا دیتے ہیں کہ پھر ان کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔

Wednesday, April 17, 2019

بعض دفعہ انسان خود کو کتنا بے بس محسوس کرتا ہے۔وہ چاہے کتنا یہ سوچ لے، کتنا یہ کہ لے کہ وہ اب حقیقت پسند ہوگیا ہے لیکن بعض اوقات اسکو ایک ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے سنے، اسے سمجھے اور بنا  اسکو غلط سمجھے اسکا ساتھ دے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہو کہ جو لوگ آپ سے اتنی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں وہ ایسے وقت میں آپکو چھوڑ کر  بیٹھ جاتے ہیں۔ مجھے یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب انسان کو پتہ ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کو کتنا برداشت کرسکتا ہے، اسکا کتنا ساتھ دے سکتا ہے وہ پھر بھی کیوں کسی سے اتنے دعوے کرتاہے۔ کسی بھی انسان کو سمجھنا واقعی میں بہت مشکل ہے اور کسی انسان سے  امیدیں لگانا اس سے بھی بڑی بیوقوفی ہے۔آپ اس دنیا میں اکیلے بھجے گئے ہو اور آپ کو اپنی ساری جنگیں ، ساری پریشانیاں اور ساری مسئلے خود حل کرنے پڑتے ہیں۔ جب آپ میں اتنی سی بھی ہمت نہ ہو اٹھنے کی اور آپ کو کوئی اٹھانے والا بھی نہ ہو تب آپ کو اپنی مدد آپ کے تحت اٹھنا پڑتا ہے خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط کرنا پڑتا ہے ہے یا مجھے یہ کہنا چاہیے کہ آپ کو خود کو اور بے حس کرنا پرتا ہے!

Monday, April 1, 2019

بعض اوقات انسان کو بہت سی چیزوں کی کبھی عادت نہیں ہوتی۔ انسان کو لگتا ہے کہ یہ سب میرے ساتھ اتنی بار ہو گیا ہو کہ میں اب اسکا عدی ہو چکا ہو لیکن وہ غلط ہوتا ہے۔ جب وہی چیز اسکے ساتھ دوبارہ ہوتی ہے تو انسان کو اتنی ہی تکلیف اور اتنا ہی  درد ہوتا ہے۔۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ زندگی بہت آسان ہے لیکن کبھی کبھی ایک پل گزارنا بھی مشکل لگتا ہے۔ اس زندگی میں بہت سی نعمتیں ہیں لیکن اتنی ہی آذامائشیں بھی ہیں ۔ انسان کو کبھی دکھ، درد ، پریشانی، آنسو اور اذیت کی عادت نہیں ہوسکتی۔