میری بلی نے کچھ دن پہلے بچے دئیے۔ سب بہت ہی پیارے ہیں اور سب میری بلی پر ہی گئے ہیں سوائے ایک بچے کے، وہ بچہ باقی کی نسبت کافی الگ ہے۔ سارے بچے پورے پورے براؤن ہیں جبکہ وہ بچہ بلکل کالا ہے اور اسکی آنکھیں نیلی ہیں۔ سب بچوں میں مجھے وہ بچہ سب سے پسند ہے۔اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں آپ کو یہ باتیں کیوں بتا رہی ہوں تو میں اصل بات کی طرف آتی ہوں۔ پرسوں میرا کزن جو کہ چار پانچ سال کا ہے اس کالے بلی کے بچے کو دیکھ کر کہنے لگا کہ یہ اچھا نہیں ہے اس کو کسی کو دے دو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کو یہ بچہ کیوں نہیں پسند تو وہ کہنے لگا کیونکہ یہ کالا ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی اور برا بھی لگا کہ اتنا سا بچہ اس کو کیا پتہ کالا اور گورا کیا ہوتاہے اور وہ اس طرح کی بات کررہا ہے ۔ میں اس وقت تو اسے سمجھا دیا لیکن میں بعد میں سوچنے لگی کہ ہم آخر اپنی نسل کو یہ کیا تعلیم دے رہے ہیں جن کے لیے کسی کے گورے ہونے کا مطلب وہ اچھا ہے اور کالے ہونے کا مطلب وہ برا ہے۔ اگر ہم کسی انسان کی بات کریں جس کا رنگ تھوڑا دبا ہوا ہے لیکن اس کے اندر بہت سی خصوصیات ہیں تو ہم صرف اس کے رنگ کی وجہ سے اس کو کم تر سمجھے گے ۔ ویسے یہ کچھ نیا نہیں ہے ہمارے معاشرے میں ہمیشہ سے ہی اس طرح کا فرق دیکھنے میں آیا ہے لیکن کم از کم اب جب آپ تعلیم حاصل کررہے ہیں، خود کے اندر شعور پیدا کر رہے ہیں تو کیوں اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کررہے ہیں۔ خود اور معاشرے کو بہتر کیجئے اور اس کالے گورے کے فرق کو ختم کیجئے اور خدارا اپنی آنے والی نسل کو بھی اس تعصب سے پاک کرنے کی کوشش کیجئے۔
Wednesday, April 29, 2020
Thursday, March 19, 2020
دوستی کا بریک اپ
دوستی کا بریک اپ
میں کافی عرصہ سے اس عنوان پر لکھنے کا سوچ رہی تھی پھر میری دوست نے بھی کافی کہا اس پر لکھنے کا تو سوچا آج لکھ ہی لوں۔
پہلے مجھے لگتا تھا کہ بریک اپ صرف محبت کے رشتوں میں ہوتا ہے اور دوستی جیسے رشتے میں اس کا کوئی وجود نہیں ۔دوستی تو ایسا رشتہ ہے جہاں بس اختلاف یا لڑائی ہوتی ہے نہ کہ بریک اپ یا نفرت لیکن زندگی میں دوستی کا ایک بہت برا تجربہ کرنے کا بعد مجھے اندازہ ہوا کہ دوستی میں نفرت اور بریک اپ دونوں ہوسکتے ہیں۔
اگر میں آپ تجربہ بتاؤں تو مجھے الحمداللہ کافی اچھے دوست ملے ہمیشہ سوائے ایک بار کے علاوہ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ میری سزا تھی یا سبق تھا میرے لئے کسی پر جلدی بھروسہ کرنے کا۔ خیر جو بھی تھا کافی برا تجربہ ثابت ہوا تھا۔ میں ایسے لوگوں سے دوستی کرتی ہی نہیں جن کی سوچ مجھ سے نہیں ملتی اور یہ بات مجھے پہلے ہی سمجھ آجاتی ہے کہ میری اس انسان سے نہیں بننے والی اس لئے مجھے دور رہنا ہے۔لیکن کچھ دوستیاں سوچ کر نہیں ہوتی اور میرے لئے تو ایسی دوستیاں کچھ ٹھیک ثابت نہیں ہوئی۔
اسکول کے زمانے سے ہی میری کافی اچھی دوستیں رہی ہیں جن سے اب تک میری بات چیت ہے۔ پھر کالج اور پھر یونیورسٹی میں بھی کافی اچھی دوستیں بنی۔لیکن جب میں ماسٹرز میں دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں گئی تو وہاں پہلے ہی دن مجھے پتہ چل گیا کہ یہاں لوگ کتنے نقلی (Fake) ہیں۔ میں سب کو ایسا نہیں کہہ رہی لیکن وہاں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی۔ مجھے وہاں بھی کافی اچھے دوست ملے لیکن ایک انسان جس سے میری دوستی بہت اتفاقاً یا یوں کہیے کہ مجبوری میں ہوئی اور جس کا مجھے کافی افسوس بھی ہے۔ خیر اس سے دوستی ایک اسائمنٹ کی وجہ سے ہوئی مجھے ویسے شروع میں ہی سمجھ آگیا تھا کہ میری اس سے نہیں بننے والی لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں میں نے اس سے دوستی ختم نہیں کی۔ اور پھر اس نے دوستی کے نام پر جو حرکتیں کیں ان سے اللہ ہر کسی کو بچائے ۔ اگر وہ یہ سب تب کرتا جب میری اس سے دوستی نہیں ہوتی تو مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن اس نے یہ سب کر کے خود کو ہی بہت چھوٹا ثابت کردیا لیکن شکر یونیورسٹی ختم ہونے سے پہلے ہی مجھے بہت سے لوگوں کے اصلی اور مکروہ چہروں کا پتہ چل گیا۔اور پھر مجھے یہ بھی سمجھ آگیا کہ دوستی کا بریک اپ بھی ہوتا ہے اور بہت بری طرح ہوتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ آپ دوستی نہ کریں لیکن ہمیشہ اس بات کا خیال رکھے کہ آپ جن سے دوستی کر رہے ہیں کہیں وہ پیٹھ پیچھے آپ کو گرانے کی سازشیں تو نہیں کر رہے، کہیں وہ شخص جو سامنے آپ کے لئے جان دینے کی باتیں کرتا پیٹھ پیچھے جان لینے کی کوششیں تو نہیں کررہا ہے۔ ہمیشہ دوستی ظرف والے لوگوں سے کریں اور کسی پر کبھی بھی کبھی بھی جلدی بھروسہ نہ دیں ۔ آپ کا بھروسہ بہت اہم ہے اس کو ہر کسی کو توڑنے کی اجازت بلکل نہ دیں۔
Šàñî
Monday, March 9, 2020
بلاک ہونا
کسی کو بلاک کیوں کیا جاتا ہے؟
اس لئے کہ وہ دوسروں کے ہاتھوں پریشان نہیں ہونا چاہتے۔فون سے بلاک ہونے کا ہرگز ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اسے ہم سے نفرت ہو گئی ہے یا محبت مر گئی ہے۔ صرف انسان پریشانی کو اوئیڈ کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ میں نے غور کیا ہے کہ بلاک ہونے سے صرف تعلق ہی بلاک ہی ہوتا ہے۔مرتا نہیں ہے۔ کیونکہ تعلق کا مارنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ بغیر محنت کے یہ نہیں مرتا۔
Friday, February 28, 2020
یاد رکھنے کی بات۔۔۔
زندگی میں تعلق ہوتا ہے
تعلق میں زندگی نہیں ہوتی
کچھ لوگ غلطی سے تعلق کو زندگی سمجھ بیٹھتے ہیں
تعلق ٹوٹنے پر، خود بھی ٹوٹ جاتے ہیں
اسی طرح
زندگی میں محبت ہوتی ہے
محبت میں زندگی نہیں ہوتی
زندگی میں درد ہوتا ہے
دردمیں زندگی نہیں ہوتی
کچھ بھی ختم ہونے سے زندگی ختم نہیں ہوتی
Monday, February 24, 2020
ہاں مجھے وہ یاد آتاہے
ہاں مجھے تم یاد آتے ہو
جب میں لوگوں کی بھیڑ میں بھی اکیلی ہو
جب مجھے لوگوں کے مقروہ چہروں سے ڈر لگے
جب مجھے کسی کی ضرورت ہو
ہاں مجھے تم یاد آتے ہو
جب میں کوشش کر کے تھک جاتی ہو
جب مجھے کوئی سمجھانے کے بعد بھی نہیں سمجھتا
جب میں بیزار ہوجاتی ہو
ہاں مجھے تم یاد آتے ہو
جب مجھے کسی کو مدد کے لیۓ پکارنا ہو
جب میں ہمت ہار بیٹھو
جب میں لڑکھڑا جاؤں
ہاں مجھے تم ہمشہ یاد آتے ہو!
ایک عام سی لڑکی
ایک عام سی لڑکی
میں ہر لڑکی کی طرح ایک عام سی لڑکی ہوں جس کے کچھ عام سے خواب ہیں۔ میں نہ ہی پڑھنے میں بہت زیادہ اچھی ہوں اور نہ کسی اور چیز میں بہترین ہوں۔
جب میں اسکول کالج میں تھی تو مجھے لگتا تھا کہ میں ہر چیز میں اچھی ہوں لیکن جب میں یونیورسٹی میں آئی اور مجھے بہت سے ایسے لوگوں سے ملنا پڑا جو مجھ سے بہت بہتر میرا مطلب ہر چیز میں پرفیکٹ ہیں تب مجھے جتنی احساس کمتری ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔
پھر مجھے پتہ چلا کہ میں کتنی عام ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے مجھ میں کوئی خصوصیات نہیں اور نہ ہی کوئی انفرادیت ہے لیکن کہتے ہیں نا کہ آپکی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جس کے لئے آپ خاص ہوتے ہیں، جس کے لئے آپ بہترین (Best) ہوتے ہیں۔ اب آپ لوگ بلکل نہیں سوچیے گا کہ چونکہ میں لڑکی ہوں تو میری زندگی میں وہ شخص کوئی لڑکا ہوگا 😂
بلکہ میری زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مجھے خاص سمجھتے ہیں جن کو لگتا ہے کہ میں ایک عام لڑکی نہیں بلکہ خاص ہوں اور ان لوگوں میں سرفہرست میری بہن ہے جو مجھے ہمیشہ خاص کہتی ہے، جو ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتی ہے اور جو ہمیشہ میری ہمت بڑھاتی ہے۔ایک بار میری بہن نے مجھے کہا تھا کہ:
"چاہے تمھاری کلاس میں تمھارے سب سے زیادہ مارکس نہ آئے اور چاہے کسی ٹیچر کو تمھارا نام نہ یاد ہو لیکن تم پھر بھی بیسٹ (Best) ہو۔"
اور مجھے لگتا ہے کہ جب جب میں احساس کمتری کا شکار ہونے لگو گی یہ الفاظ میری ہمت بڑھائے گے، میری بہن میری ہمت بڑھائے گی۔
بے قدری
بے قدری
ہم انسان کتنے نا شکرے ہوتے ہیں ہمیں ہمیشہ وہی چیز چاہیے ہوتی ہے جو ہمیں ہمارے ہی بھلے کے لئے نہ ہو۔ پھر انسان اللہ سے ضد بندھ کر بیٹھ جاتا ہے، نا شکری شروع کردیتا ہے۔میں یہ نہیں کہوں گی کہ میں بہت شکر گزار ہوں یا میں کبھی اللہ سے شکایت نہیں کرتی لیکن اللہ سے شکایت کرنا اور نا فرمانی کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
میری ایک بہت اچھی دوست ہے جوہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتی ہے اور جو ہمیشہ مجھے ہمت دلاتی ہے ۔ وہ میری زندگی کی دوسری لڑکی ہے جس سے میں نہ صرف متاثر ہوئی بلکہ وہ میرے لئے ایک انسپریشن (Inspiration)ہے لیکن بعض دفعہ وہ ایسی باتیں کرجاتی ہے کہ میں بس حیرت سے اس کامنہ تکتے رہ جاتی ہوں۔ابھی پچھلے دنوں کسی بات پر اس کاموڈ کافی خراب تھا اور اسی غصہ اورمایوسی میں وہ کہنے لگی کہ میری قسمت ہی خراب ہے ہمیشہ کچھ اچھا ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ غصہ بھی آیا لیکن میں نے اس کو بہت پیار اور صبر سے سمجھایا اور اس کے گھر والوں نے بھی جس کے بعد وہ سمجھ گئی لیکن میں یہ سوچنے لگی کہ ہم انسان آخر کیوں ایسے ہوتے ہیں آخر کیوں ہم ذرا سی دنیاوی چیز نہ ملنے پر اللہ سے سوال کرنے لگ جاتے ہیں۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم کس حق سے اپنے رب سے سوال کر رہے ہیں کیا ہم اتنے نیک اور پرہیز گار ہیں یا ہم نے کچھ نمازیں پڑھ کر اپنے رب پر احسان کیا کہ ہم اس سے سوال کریں۔
میں یہ نہیں کہتی کہ آپ اللہ سے بات نہ کریں، شکایت نہ کرے یا اس کے سامنے فریاد نہ کریں بلکہ بس اس سے ناشکری نہ کرے ۔ میں جانتی ہوں کچھ چیزوں کے لئے صبر کرنا بہت مشکل ہے بلکہ آپ تو یہ سوچتے ہونگے کہ آپ کے لئے ناممکن ہو لیکن ہوسکتا ہو وہ چیز، وہ نوکری، وہ شخص آپ کے لئے بہتر تو ہو لیکن اللہ آپ کے لئے بہترین منتخب کرچکاہو۔
کسی بھی چیز کے بارے میں پہلے سے منفی سوچنے سے اچھا ہے کہ آپ کچھ وقت دیں اس چیزکو ہوسکتا ہے آپ کے لئے کوئی نیا سپرائس آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ویسے یہاں میں ایک اور بہت مزے کی بات بتانا چاہوں گی جو میری ہی ہے تو ہوا کچھ ایسا کہ ابھی کچھ ہفتے ہی ہوئے تھے ہمارا ماسٹرز ختم ہوئے تو ہم دوستوں نے سوچا کہ کہیں نوکری کے لئے کوشش کرتے ہیں ۔ میری دو کافی اچھی دوستیں ہیں تو ہم ساتھ ہی اپنی سی وی ہر جگہ دے رہے تھی اب ہوا کچھ یوں کہ میری دوستوں کے پاس انٹرویو کی کال آگئی اور میرے پاس ایک میسج تک نہ آیا یہ سوچ سوچ کر مجھے اتنا برا لگ رہا کہ کیا میں اس قابل بھی نہیں ۔میری دوستوں نے کافی سمجھایا مجھے اور پھر میں اکیلی چھت پر کھڑی اللہ سے بات کر رہی تھی(سب سے اچھا طریقہ خود کو اچھا محسوس کروانے کا) تو ایک دم سے میرے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ اپنی سی وی کھول کر دیکھوں اور پھر مجھے پتہ چلا کہ لوں بھئی میں نے تو اپنا فون نمبر ہی غلط ڈالا ہوا ہے۔
اسکے بعد جو مجھے اپنی بہن سے ناشکری کے طعنے سننے کو ملے وہ تو الگ ہیں لیکن اپنی دوستوں سے بھی کافی لعن تعن ملی۔ اس لئے ضروری نہیں کہ آپ کی زندگی میں جو کچھ غلط ہورہا ہے وہ آپ قسمت پر یا اللہ پر ڈال کر خود بری الزمہ ہوجائے۔آپکی زندگی میں بہت کچھ آپ کے اپنے کرتوت کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔
Tuesday, September 24, 2019
انسان اور انکی دوسروں سے امیدیں
انسان بھی کتنا عجیب ہے ہمیشہ ہی چیز سے ٹھوکر کھانے کے بعد دوبارہ ٹھوکر کھانے چلا جاتا ہے۔انسان بھی کتنا ڈھیٹ ہے خود کو چاہے جتنا حقیت پسند ظاہر کرے۔کتنا ہی یہ ظاہرکرے کہ وہ کسی سے امیدیں وابستہ نہیں کرے گا ایک بار دل ٹوٹنے، امیدیں ٹوٹنے کے بعد بھی پھر سے اسی شخص سے پہلے سے زیادہ امیدیں لگاتا ہے اور پھر ٹوٹنے کے بعد رونا دھونا مچاتا ہے۔مجھے لگتا کچھ چیزیں انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہی نہیں جیسے کسی سے امیدیں وابستہ کرنا۔میں نے خود ایسے بہت سے لوگوں سے امیدیں لگائی جن سے مجھے لگتا تھا کہ وہ مجھے کبھی دکھ نہیں پہنچائے گے۔جن سے مجھے لگتا تھا کہ وہ میری امیدیں کبھی نہیں توڑے گے اور نہ ٹوٹنے دیں گے۔لیکن انسان بھی بس کیا مخلوق ہے۔اس کو پتہ ہے کہ کس طرح کسی انسان کو باتوں سے گھیرنا ہے۔کس طرح اپنی باتوں کا جال بیچھا کر اس میں پھاسنا ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ امیدیں لگانا برا نہیں بلکہ یہ سوچنا کہ وہ آپ شخص آپکی امیدیں توڑے گا نہیں یہ غلط ہے۔کوئی بھی شخص کبھی بھی آپ کی امیدیں اور بھروسے کو پیروں تلے روند کے آگے نکل جاتا ہے
Thursday, September 19, 2019
انسان کی کہانی
آج میرے ٹیچر نے بہت ہی اچھی بات کہی ویسے تو وہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں تھی لیکن پھر بھی اس بات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ میری ٹیچر نے کہا کہ: "ہر کوئی اپنے ساتھ ایک کہانی لے کر چل رہا ہوتا ہے"۔ اور اگر آپ مجھ سے پوچھے تو میں بلکل اس بات اتفاق کرتی ہوں۔ واقعی میں ہر انسان اپنے ساتھ ایک کہانی لے کر چلتا ہے جس میں جہاں اچھے لوگ ہوتے ہیں تو وہی بہت سے ولن بھی ہوتے ہیں۔ جہاں تلخ حقیقت ہوتی ہے وہی بہت سا ڈرامہ بھی ہوتا ہے۔
اگر ہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو ہمیں کتنے ہی ایسے لوگ دیکھے گے جو بظاہر تو بہت خوش لگ رہیں ہوتے ہیں لیکن اندر ہی اندر وہ خود سے ایک جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو زرا زرا سی تکلیف پر ایک تو پریشان ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ دوسروں کہ سامنے ایسے بنتے ہیں جیسے سارے ظلم ان پر ہو رہیں ہیں اور باقی سب مزے کی زندگی کزار رہیں ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ کیوں اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ وہ حالات کا مقابلہ کرنے تک کی طاقت نہیں رکھتے وہ کیوں یہ نہیں دیکھتے کہ دوسرے لوگوں کو ان سے زیادہ مسائل ہیں پھر بھی وہ کس ہمت اور حوصلے سے زندگی گزرا رہیں ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ خود کو کسی خول میں بند کرلیں اور کسی سے کچھ کہئے ہی نہ لیکن خود کہ اندر کم از کم اتنی ہمت تو پیدا کریں کہ آپ پریشان ہونے کہ بجائے یہ سوچے کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ جہاں تک میں نے زندگی کو دیکھا ہے تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا دور (phase) آتا ہے جب وہ بلکل ٹوٹ جاتا ہے ہمت ہار جاتا ہے اسکو لگتا ہے کہ اسکو زندگی نے ایسی ٹھوکر دی ہے کہ وہ اب اٹھ نہیں سکے گا لیکن وہ نہ صرف اٹھتا ہے بلکہ زندگی کی دور میں پہلے سے زیادہ تیز دوڑتا ہے۔ میں ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ:
"زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی آپ کے اندر داخل ہوتی ہے۔"
اس لئے زخم لگنا برا نہیں بلکہ وہ تو آپ کو روشن کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
Wednesday, September 4, 2019
حقیقت پسندی یا منافقت
بعض اوقات حقیقت پسند ہونا بھی کتنا مشکل ہوتا ہے۔ ایک تو انسان کو خود کو نارمل ظاہر کرنا پڑتا ہے اور دوسرا چاھیں آپ کے اندر کتنا ہی بڑا طوفان آمنڈ رہا ہو لیکن دوسروں کے سامنے چہرے پر مسکراہٹ سجانی پڑتی ہے۔اور بعض اوقات آپ چاہیں کسی کو کتنا یہ جتانے کی کوشش کریں کہ آپکے دل میں کوئی ناراضگی، انکی کسی بات سے آپ کا دل نہیں دوکھا لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ناراضگی، وہ تلخ پن آپ کے لب و لہجہ میں ظاہر ہو ہی جاتا ہے_کبھی کبھی مجھے خود پر بہت غصہ آتا ہے، بہت چڑ ہوتی ہے کہ میں کیوں دوسروں کی طرح منافق نہیں ہوسکتی۔ کیوں لوگوں کے منہ پر کچھ اور، اور دل میں کچھ اور نہیں ہوسکتی۔ میں ایسا اس لئے چاہتی ہوں کہ بعض دفعہ زندگی میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ جیسے ہیں لوگ آپ کو قبول نہیں کر رہیں ہیں انُکو بس وہی بات آپ کے منہ سے سننی ہے جو انکے مطابق ہو۔اگر آپ کو میں سچ بتاؤں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب زیادہ تر انسان ہی اس طرح کے ہیں کہ وہ آپ کے منہ پر آپکے اور پیٹ پیچھے کسی اور کے ہوجاتے ہیں۔ آپ لوگ بلکل یہ نہ سمجھے کہ مجھےبس برے لوگ ملتے ہیں یا برے تجربات ہوتے ہیں لیکن بعض دفعہ کچھ چیزیں اتنی زیادہ قابو سے باہر ہوجاتی ہیں کہ مجھے لگتا ہے اب کچھ بھی میرے قابو میں نہ آئے گا۔
میری ٹیچر نے بہت اچھی بات کہی تھی اور یہ بات مجھے پہلے ہی پتہ تھی لیکن ان کے کہنے سے مجھے اتنا اندازہ ہوا کہ میں ہمشہ فضول نہیں سوچتی۔ خیر میری ٹیچر نے کہا کہ ہم سب انسان ہیں تو ہر کسی کو انسان ہی سمجھا جائے کوئی فرشتہ نہیں ہوتا ۔ میں بھی ایسا سوچتی ہوں کہ کوئی فرشتہ نہیں ہوتالیکن مجھے یہ بات بہت بری لگتی ہے کہ آخر لوگ جو ہیں وہ کیوں چھپاتے ہیں آخر کیوں فرشتے بننے کی کوشش کرتے ہیں۔پہلے وہ آپ کے ساتھ اچھا رہے کر اپنی عادت کرواتے ہیں چائیں آپ ان کو کتنا ہی منع کرے اور پھر جو وہ ہیں وہ دیکھاتے ہیں۔ انسان بہت عجیب ہوتے ہیں۔
میری ٹیچر نے بہت اچھی بات کہی تھی اور یہ بات مجھے پہلے ہی پتہ تھی لیکن ان کے کہنے سے مجھے اتنا اندازہ ہوا کہ میں ہمشہ فضول نہیں سوچتی۔ خیر میری ٹیچر نے کہا کہ ہم سب انسان ہیں تو ہر کسی کو انسان ہی سمجھا جائے کوئی فرشتہ نہیں ہوتا ۔ میں بھی ایسا سوچتی ہوں کہ کوئی فرشتہ نہیں ہوتالیکن مجھے یہ بات بہت بری لگتی ہے کہ آخر لوگ جو ہیں وہ کیوں چھپاتے ہیں آخر کیوں فرشتے بننے کی کوشش کرتے ہیں۔پہلے وہ آپ کے ساتھ اچھا رہے کر اپنی عادت کرواتے ہیں چائیں آپ ان کو کتنا ہی منع کرے اور پھر جو وہ ہیں وہ دیکھاتے ہیں۔ انسان بہت عجیب ہوتے ہیں۔
Friday, August 30, 2019
رشتے احساس کے ہوتے ہیں
رشتے احساس کے ہوتے ہیں
یہ بات تو آپ نے کافی دفعہ سنی اور پڑھی ہو گی کہ رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں۔ اگر خونی رشتوں میں احساس نہیں تو وہ رشتے نہیں ہوتے ، کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مجھے پہلے لگتا تھا کہ صرف خونی رشتے ہی اصل رشتے ہوتے ہیں لیکن میں نے خونی رشتوں کو ایسے ایسے رنگ بدلتے دیکھا ہے کہ اب رشتوں پر بڑی مشکل سے اعتبار ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ایسے بہت سے لوگ اپنی زندگی میں ملیں جن سے مل کر مجھے احساس ہوا کہ احساس ہی وہ چیز ہے جس سے رشتے بنتے اور ٹوٹتیں ہیں۔ میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھے ایسے بہت سے لوگ دیئے جنھوں نے مجھے رشتوں کی اہمیت بتائی۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ احساس ہی وہ جذبہ ہے جس سے اپنے پرائے ہوجاتے ہیں اور پرائے اپنے بن جاتے ہیں۔
مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب کوئی انسان کسی کا احساس نہیں کرسکتا تو وہ کس طرح کسی بھی قسم کا حق آپ پر جتا سکتا ہے۔ اگر کسی کو آپ کے دکھ، آپکی پریشانی، آپ کے موڈ، آپ کی خوشی، آپ کے چڑچڑےپن اور آپکی تکلیف کا احساس نہیں تو وہ کن الفاظ میں آپ سے اپنے مخلص ہونے کا دعوہ کرسکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں احساس کرنے والے کم اور احسان جتانے والے انسان زیادہ ہیں۔ خیر الحمداللہ میری زندگی میں بہت سے احساس کرنے والے لوگ ہیں جن کی میں دل سے شکر گزار ہوں۔
مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب کوئی انسان کسی کا احساس نہیں کرسکتا تو وہ کس طرح کسی بھی قسم کا حق آپ پر جتا سکتا ہے۔ اگر کسی کو آپ کے دکھ، آپکی پریشانی، آپ کے موڈ، آپ کی خوشی، آپ کے چڑچڑےپن اور آپکی تکلیف کا احساس نہیں تو وہ کن الفاظ میں آپ سے اپنے مخلص ہونے کا دعوہ کرسکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں احساس کرنے والے کم اور احسان جتانے والے انسان زیادہ ہیں۔ خیر الحمداللہ میری زندگی میں بہت سے احساس کرنے والے لوگ ہیں جن کی میں دل سے شکر گزار ہوں۔
Sunday, August 18, 2019
افسانوی باتیں یا حقیقت
میرے کافی دوستوں کو لگتا ہے کہ میں افسانوی باتیں لکھتی ہو۔ ان کے خیال میں، میں جو زندگی کے باری میں بلوگ لکھتی ہو انکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سب افسانوی باتیں ہیں جبکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں جو بھی تجربات کئے ہیں، چاہے وہ اچھے ہو یا برے، میں ان کا اظہار اپنے بلوگز کے ذریعے کرتی ہو اور میرے خیال میں ہر انسان اپنی زندگی میں اچھے اور برے دور سے گزرتا ہے۔ زندگی تو نام ہی خوشی اور غم کا ہے۔ اگر آپ کی زندگی میں غم نہیں آئیں گیں تو آپ کو خوشی کا احساس کیسے ہوگا اور اگر پریشانی نہیں ہو گی تو راحت کا مزا کیسے آئے گا۔
میرے لئے زندگی ایک سسپنس فلم کی طرح ہے جہاں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہونا ہے۔ کبھی انسان کو لگتا ہے کہ اگر اب کوئی غم یا مصیبت اس پر آئی تو وہ مر جائے گا لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو وہ بس چپ چاپ آنسو بہانے کے کچھ نہیں کرسکتا اور اس کے بعد بھی انسان جیتا ہے۔زندگی میں چاہیں جتنے بھی غم ہو لیکن ان کو ایک دن ختم ہی ہوجانا ہے وہ کہتے ہیں نا کہ "ہر اندھیری رات کے بعد ایک نیا سویرا ہوتا ہے۔" ویسے میں اپنے دوستوں سے بس یہی کہو گی کہ میں جو محسوس کرتی ہو وہ لکھتی ہو۔ میں نے جو تجربہ کیا ہے اب تک زندگی کے بارے میں وہی میں بیان کرتی ہو اور سب سے بڑی بات مجھے لکھنا پسند ہے۔
Friday, August 2, 2019
زندگی حسین ہے
زندگی بھی کتنی عجیب ہے نا۔ آپ سوچتے بھی نہیں اور آپ کو اتنی خوشیاں دےدیتی ہے اور چھین بھی لیتی ہے۔ میں نے کبھی بھی اپنی زندگی سے کوئی شکایت نہیں کی بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بہت سی نوازشیں کی ہیں جس کا شکر میں پوری زندگی بھی کروں تو کم ہے۔ کچھ لوگوں کو میرے بلوگ پڑھ کر لگتا ہے کہ میری زندگی میں اداسی ہے یا میں مظلوم بن رہی ہو ۔ جبکہ میں وہ لکھتی ہو جو میرے ذہن میں آتا ہے ۔ اور اب اس چیز کا میں کیا کروں کہ جب میرے ذہن اور سوچوں میں ایسے الفاظ آتے ہیں جو زندگی کی کڑوی حقیقتیں ہی بیان کرتے ہیں۔
مجھے لگتا ہے زندگی بہت حسین ہے۔ اگر یہاں غم ہے تو خوشیاں بھی ہیں، پریشانیاں ہیں تو سکون بھی ہے۔ کچھ اپنے ہو کر بھی غیر ہیں تو کچھ غیر ہو کر بھی اپنے ہیں۔ زندگی ایک نعمت ہے
Tuesday, July 2, 2019
بعض اوقات انسان خود کو اتنا تکلیف میں محسوس کرتا ہے کہ اس کو لگتا ہے کہ اسکو زرا سی تکلیف اور ملی تو وہ مر جائے گا۔اور سب سے اذیت یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔ بعض دفعہ انسان اتنا بے بس ہوجاتا ہے کہ وہ رو بھی نہیں سکتا کیونکہ اس پر بھی کچھ لوگوں کو اعتراضات ہوتے ہیں یا اس کے رونے پر بھی لوگ اسے جج کرتے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ کیوں دوسروں کی زندگی میں اتنے اعتراضات کرتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود سکون سے رہتے ہیں اور نہ دوسروں کو رہنے دیتے ہیں۔
Sunday, June 23, 2019
زندگی
زندگی
یہ لفظ جتنا چھوٹا ہے اس میں اتنی ہی زیادہ مسافت ہے۔ کچھ انسانوں کو یہ مسافت ٹوٹے ہوۓ کانج پر چل کر پوری کرنی ہوتی ہے اور کچھ کو تپتی زمین پر چل کر ۔ میں بعض اوقات سوچتی ہو کہ کچھ انسان اپنی زندگی کی صرف تلخ یادوں کہ سہارے زندگی گزار دیتے ہیں جبکہ انکے پاس ایسے بہت سے موقع آتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اچھی یادیں اور پل شامل کرسکے۔ زندگی ہر انسان کو اچھی اور بری یادیں دیتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اگر آپ ابھی برا وقت گزار رہیں ہیں تو یہ ساری زندگی کے لئے ہو۔
مجھے لگتا ہے کہ زندگی نام ہی اچھے اور برے پللوں کا ہے۔اگر آپ برا وقت نہیں دیکھے گے تو اچھے وقت کو کھل کر کیسے جی سکیں گے۔ زندگی میں آنے والے کچھ برے لمحات انسان کو اس طرح توڑ کر رکھ دیتے ہیں کہ وہ پھر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہتا جبکہ کچھ لوگوں کو وہ حالات اتنا مضبوط بنا دیتے ہیں کہ پھر ان کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔
یہ لفظ جتنا چھوٹا ہے اس میں اتنی ہی زیادہ مسافت ہے۔ کچھ انسانوں کو یہ مسافت ٹوٹے ہوۓ کانج پر چل کر پوری کرنی ہوتی ہے اور کچھ کو تپتی زمین پر چل کر ۔ میں بعض اوقات سوچتی ہو کہ کچھ انسان اپنی زندگی کی صرف تلخ یادوں کہ سہارے زندگی گزار دیتے ہیں جبکہ انکے پاس ایسے بہت سے موقع آتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اچھی یادیں اور پل شامل کرسکے۔ زندگی ہر انسان کو اچھی اور بری یادیں دیتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اگر آپ ابھی برا وقت گزار رہیں ہیں تو یہ ساری زندگی کے لئے ہو۔
مجھے لگتا ہے کہ زندگی نام ہی اچھے اور برے پللوں کا ہے۔اگر آپ برا وقت نہیں دیکھے گے تو اچھے وقت کو کھل کر کیسے جی سکیں گے۔ زندگی میں آنے والے کچھ برے لمحات انسان کو اس طرح توڑ کر رکھ دیتے ہیں کہ وہ پھر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہتا جبکہ کچھ لوگوں کو وہ حالات اتنا مضبوط بنا دیتے ہیں کہ پھر ان کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔
Wednesday, April 17, 2019
بعض دفعہ انسان خود کو کتنا بے بس محسوس کرتا ہے۔وہ چاہے کتنا یہ سوچ لے، کتنا یہ کہ لے کہ وہ اب حقیقت پسند ہوگیا ہے لیکن بعض اوقات اسکو ایک ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے سنے، اسے سمجھے اور بنا اسکو غلط سمجھے اسکا ساتھ دے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہو کہ جو لوگ آپ سے اتنی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں وہ ایسے وقت میں آپکو چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مجھے یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب انسان کو پتہ ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کو کتنا برداشت کرسکتا ہے، اسکا کتنا ساتھ دے سکتا ہے وہ پھر بھی کیوں کسی سے اتنے دعوے کرتاہے۔ کسی بھی انسان کو سمجھنا واقعی میں بہت مشکل ہے اور کسی انسان سے امیدیں لگانا اس سے بھی بڑی بیوقوفی ہے۔آپ اس دنیا میں اکیلے بھجے گئے ہو اور آپ کو اپنی ساری جنگیں ، ساری پریشانیاں اور ساری مسئلے خود حل کرنے پڑتے ہیں۔ جب آپ میں اتنی سی بھی ہمت نہ ہو اٹھنے کی اور آپ کو کوئی اٹھانے والا بھی نہ ہو تب آپ کو اپنی مدد آپ کے تحت اٹھنا پڑتا ہے خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط کرنا پڑتا ہے ہے یا مجھے یہ کہنا چاہیے کہ آپ کو خود کو اور بے حس کرنا پرتا ہے!
Monday, April 1, 2019
بعض اوقات انسان کو بہت سی چیزوں کی کبھی عادت نہیں ہوتی۔ انسان کو لگتا ہے کہ یہ سب میرے ساتھ اتنی بار ہو گیا ہو کہ میں اب اسکا عدی ہو چکا ہو لیکن وہ غلط ہوتا ہے۔ جب وہی چیز اسکے ساتھ دوبارہ ہوتی ہے تو انسان کو اتنی ہی تکلیف اور اتنا ہی درد ہوتا ہے۔۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ زندگی بہت آسان ہے لیکن کبھی کبھی ایک پل گزارنا بھی مشکل لگتا ہے۔ اس زندگی میں بہت سی نعمتیں ہیں لیکن اتنی ہی آذامائشیں بھی ہیں ۔ انسان کو کبھی دکھ، درد ، پریشانی، آنسو اور اذیت کی عادت نہیں ہوسکتی۔
Tuesday, March 19, 2019
Beautiful people
Yesterday when I wrote my first blog about my quiz and the depression. I told my sister please yr read this blog and give me some suggestions. She told me 'mjhe toh ye bh nh pta k blog hta kia h' 😂 Actually she's a medical student 😂 Then when I send it to my Big B, he said 'ye knsi english likhi h tmne 😂 I am like aur ktni beesti hogi mri 😂 He told me try to write little practical and correct the grammatical mistakes 😂 Then one of my Friend appreciate me. Thanks to him 😁 Then when I send that blog to my Gang group, They thought I had depression about the quiz and I need consoling 😂 So our newest CR (Mishi) wrote a paragraph for encouraging me 😂 I told her thank you for that and told that this is my first blog and I send this for feedback 😂 Then one by one all friends of mine appreciated me 😁 One of my bestie (Yusra) told me 'esi baten na kia kr rona ajata h' 😂 Love you all for so mamy appreciations and encourge me to write this Faltu ki bakwas 😂 Which I love to write 😁
Own expectations
Mostly we use to listen 'Expectations always hurt' and I think that's true. If you expect someone even with yourself you get depressed. Today I had a quiz and I am so excited because I learn better for the 1st time 😂 and I expect myself that I do my best but when the quiz I just blank but then I write it but that is wrong. I feel so bad for that. I just feel depressed. My whole mood spoil. I had so much expectations to myself that hurt me alot. Then I decided not to expect anything and just happy with the flow of my life. Thanks to God whatever done with my life and never ever lose hope. I am just trying to achieve the goals and never hurt with the expectations.
Subscribe to:
Posts (Atom)